نئے اقدامات

پنجاب فصل بیمہ پروگرام

جائزہ

فصلوں کی انشورنس بنیادی رسک مینجمنٹ ٹول ہے جو قدرتی آفات سے ہونے والی تلافی اور بحالی کے لئے کسانوں کی مالی مدد کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ اس پروگرام کا مقصد تیزی سے بدلتے موسمی حالات اور فصلوں کی پیداوار پر اس کے اثرات کے خلاف کاشتکاری طبقے کی مالی لچک کو بڑھانا ہے۔ مقصد فصلوں کی پیداوار کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔ اگر کسی وجہ سے بیمہ شدہ فصل (فصلوں) کی پیداوار میں کمی واقع ہوئی ہے تو ، کسی بھی وجہ کی وجہ سے ، حد نقطہ سے آگے ، بیمہ شدہ کسانوں کو انشورنس کمپنی کی طرف سے انشورنس کمپنی کی طرف سے متفقہ شرائط کے مطابق معاوضہ دیا جائے گا

مقاصد

  • مالی سال 2019۔20 کے لئے ، پنجاب میں  500،000  کسانوں کی انشورینس کا ہدف ہے۔ پنجاب اسمارٹ پروگرام کے تحت اہداف کا پہلے ہی طے/فیصلہ کیا گیا ہے۔

جسمانی سرگرمیاں

  • کسانوں کی رجسٹریشن
  • مسابقتی بولی لگانے کے عمل کے ذریعے انشورنس کمپنی کا انتخاب
  • کسان آگاہی پروگرام مواصلات کے تمام دستیاب ذرائع کو بروئے کار لاتے ہیں یعنی اخبار ، ریڈیو ، ٹی وی ، مقامی کیبل ، ایس ایم ایس ، تحصیل سطح کے سیمینار ، پرچے تقسیم وغیرہ

متوقع نتائج

  •  قدرتی آفات سے ہونے والی تلافی اور بحالی کے لئے کسانوں کی مالی مدد کرن

اقتصادی اور ڈیجیٹل شمولیت (ای کریڈٹ) کے ذریعے کسان کو بااختیار بنانا

جائزہ

(ای کریڈٹ سکیم) کے عنوان سے ایک سکیم 2020- 21 تک پانچ سال کی مدت کے لئے اکتوبر 2016 میں شروع کی گئی تھی۔ اس سکیم کے ذریعے چھوٹے کاشتکاروں کو بلا سود قرضے فراہم کئے جارہے ہیں۔ اس سکیم کے ذریعے چھوٹے کاشتکاروں کو دو کمرشل بینکوں / پی ایف آئی (زیڈ ٹی بی ایل اور این بی پی) اور تین مائیکرو فنانس انسٹی ٹیوشن /ایم ایف آئی (ٹیلی نار مائیکرو فنانس بینک، این آر ایس پی اور اخوت اسلامی مائیکرو فنانس)کے ذریعے بلاسود قرضے فراہم کیے جارہے ہیں۔ اس سکیم کے تحت اخوت اسلامی مائیکرو فنانس کو ایک گھومنے والا فنڈ جس کی مالیت 2.00 ارب  ہے فراہم کیا گیا ہے۔ جبکہ باقی تمام  PFIs/MFIs اپنے وسائل کے ذریعہ اپنی کریڈٹ لائنوں کا انتظام کرتے ہیں۔ کسان کی رجسٹریشن پی ایل آر اے کے ذریعے کی جارہی ہے۔ ربیع کی فصل کے لئے30,000/- روپے فی ایکڑ اور  خریف کی فصل کے لئے 40,000/-   فی ایکڑ بغیرسود کے مفت قرضے فراہم کیے جارہے ہیں۔ جن کاشتکاروں کے پاس 12.5ایکڑ اراضی ہے اس سکیم کے تحت بلا سود قرضو لینے کے اہل ہونگے۔ تاہم سود/مارک اپ سبسڈی صرف پانچ ایکڑ تک فراہم کی جائیگی۔ درخواست دہند /کاشتکار/کرایہ دار /حصہ دارایک ہی یونیں کونسل کے ہونا چاہیے جہاں اسکی زمین واقع ہے۔ رواں مالی سال 2019-20 کے دوران اس سکیم کے لئے 600 ملین مختص کیے گئے ہیں۔

مقاصد

  • اس سکیم کا بنیادی مقصد کسان کو بہتر فصل لینا آسان بنانا ہے
  • کسانوں کو سستی قیمتوں پر مصنوعات فروخت کرنے کے قابل بنانا
  • کسانوں کی ڈیجیٹل خواندگی میں اضافہ
  • ملک میں مجموعی مالی شمولیت میں اضافہ
  • بینکنگ نیٹ ورک میں کم بینکاری والے اور غیر بینک والے کسانوں کی حوصلہ افزائی کرنا،  لہذا قرض کا تقریباً 70%حصہ ان کسانوں کو دیا جائے جنکاسابقہ قرضہ ریکارڈ نہیں ہے

نتائج

  • مالی مداخلتکاشتکاری برادری کے معیار زندگی کو بہتر کرنے اور غربت کے خاتمے کے لئے ابھی تک اس سکیم کے تحت پی ایل آر اے کے زریعے کل470,933کسان رجسٹرڈ ہو چکے ہیں۔ مزید برآں تمام PFIs / MFIs نے پنجاب کے چھوٹے کاشتکاروں کو اب تک  916,768(نمبرز)   قرضے تقسیم کیے گیے ہیں جنکی مالیت 61.99 بلین روپے ہے۔حکومت پنجاب نے اس سکیم کے تحت ابتک  5.522بلین روپے کی سبسڈی ادا کی ہے۔
  • ڈیجیٹل مداخلتکسان برادری میں ڈیجیٹل خواندگی بڑھانے کے لئے اس سکیم کے تحت تمام قرضہ لینے والے کسانوں میں سمارٹ موبائل فون تقسیم کیے ہیں ابتک اس سکیم کے تحت حکومت پنجاب نے سبسڈائزڈ قیمت پر 78,677موبائل فون تقسیم کیے ہیں ان موبائل فون کی تقسیم کا مقصد کسانوں میں موسمی صورت حال کا اندازہ، بہتر کاشتکاری طریقے اور ماہرین کی تجاویز فراہم کرنا ہے۔ اس سکیم کے تحت دس مو بائل ایپلیکیشنز بنائی گئی ہیں۔

کھادوں اور بیجوں پر سبسڈی

کھادوں پر براہ راست سبسڈی بذریعہ ای ووچر

  • فاسفورسی اور پوٹاش کھادیں یعنی ڈی اے پی500 روپے، این پی200 روپے، ایس ایس پی200 روپے، ایس او پی800 روپے، ایم او پی500 روپے اور این پی کے، پر300 روپے فی بوری سبسڈی فراہم کی جا رہی ہے
  • کھادوں کی ہر بوری میں ایک ووچر مہیا کیا گیا ہے جس پر درج خفیہ نمبر اپنے شناختی کارڈ کے ہمراہ شارٹ کوڈ8070 پر بھیج کر پنجاب کا رجسٹرڈ کاشتکار متعلقہBranch Less Banking Operator  کے نمایندے سے سبسڈی کی رقم وصول کر سکتا ہے
  • حکومت پنجاب نے فاسفورسی اور پوٹاش کھادوں پر سبسڈی کے اقدامات کیے ہیں جس کے باعث کاشتکاران کھادوں پر اٹھنے والے اخراجات میں معقول کمی سے فائدہ اٹھا کر انکا متناسب استعمال کر سکتے ہیں
  • اس سبسڈی کے باعث فصلوں کی بہتر پیداوار اور کسان کی خوشحالی کا دیرینہ مقصد حاصل ہوسکے گا۔

کپاس کے بیج پر براہ راست سبسڈی بذریعہ ای ووچر

  • کپاس کے بیج پر بھی ملتان، ڈیرہ غازی خان اور بہاولپور کے ڈویژن میں سبسڈی فراہم کی جاتی ہے
  • کپاس کی منتخب  شدہ اقسام کے تصدیق شدہ بیج پر 1000 روپے فی تھیلا سبسڈی فراہم کی جاتی ہے
  • کپاس کے بیج کے تھیلے میں ایک ووچر مہیا کیا گیا ہے جس پر درج خفیہ نمبر اپنے شناختی کارڈ کے ہمراہ شارٹ کوڈ8070 پر بھیج کر پنجاب کا رجسٹرڈ کاشتکار متعلقہBranch Less Banking Operator  کے نمایندے سے سبسڈی کی رقم وصول کر سکتا ہے
  • پنجاب میں کپاس کے بیج کے تصدیق شدہ بیج کے استعمال کے فروغ کے باعث کپاس کی بہتر پیداوار حاصل ہوگی

پوٹاش سبسڈی سکیم 2018-19

محکمہ زراعت نے مالی سال2018-19میں پوٹاش کھادوں پر سبسڈی سکیم شروع کی جس کے لئے 134.00ملین روپے کا بجٹ مختص کیا گیا۔اس سکیم کے تحت پنجاب بھر کے رجسٹرڈ کاشتکاروں کوکھاد کے تھیلوں پر چسپاں ای واؤچر کے ذریعہ پوٹاش کھادوں (ایس او پی،ایم او پی اور این پی کے) پر سبسڈی فراہم کی گئی۔

مقاصد

  • پوٹاش کھاد کے استعمال کو فروغ دینا
  • کھادوں کی فراہمی کے ذریعے فصلوں کی پیداوار کو بڑھانا۔

نتائج

  • پوٹاش کھادوں پر سبسڈی کی دستیابی کی وجہ سے صوبہ بھر میں پوٹاش کھادوں (ایس او پی،ایم او پی اور این پی کے)  کے استعمال میں اضافہ ہوا

سبسڈی برائے چنا

جائزہ

ربیع فصلات میں دالوں میں سب سے زیادہ چنے کی فصل کاشت ہوتی ہے۔ دالوں کی کل پیداوار کا 76فیصد صرف چنے سے حاصل ہوتا ہے  اور چنے کی کاشت کا کل فصلات کی کاشت میں 5 فیصد حصہ ہے۔ صوبہ پنجاب پاکستان میں چنے کی کی کل پیداوار کا 80 فیصد پیدا کرتاہے۔ عام طور پر زمیندار غیر تصدیق شدہ بیج استعمال کرتا ہے جس کی وجہ سے فی ایکڑ اور کل پیداوار متاثر ہوتی ہے۔ اس لیے محکمہ زراعت نے تصدیق شدہ بیج فیڈرل سیڈ سرٹیفکیشن اینڈ رجسڑیشن ڈیپارٹمنٹ سے منظور شدہ کمپنیز کے ذریعے مہیا کرنے کے لیے یہ سکیم شروع کی ہے۔ اس سبسڈی سکیم کا مقصد   تصدیق شدہ اور صحت مند بیج کو فروغ دے کر چنے کی فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ ہے۔ جو کاشتکار یہ بیج استعمال کریں گے انھیں فی ایکڑ 2ہزار روپے بذریعہ ای ووچر فراہم کیے جائیں گے۔ یہ سکیم چنا پیداکرنے والے اضلاع بھکر، میانوالی، خوشاب، سرگودھا،مظفر گڑھ، لیہ، راجن پور، ڈیرہ غازی خاں، جھنگ، بہاولنگر، چکوال اور اٹک کے کاشتکاروں کے لیے ہے۔

مقاصد

  • زرعی شعبہ کا سب سے اہم مقصد پیداوار میں اضافہ ہے
  • چنے کے رقبہ اور پیداوار میں اضافہ اور صوبہ کو چنا میں خود کفیل کرنا ہے
  • تصدیق شدہ بیج کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے
  • کاشتکار کی آمدن میں اضافہ کرنا ہے۔

نتائج

  • چنے کی پیداوار میں خود کفالت
  • چنے کی پیداوار میں اضافہ کے ساتھ مارکیٹ پرائس کو اعتدال میں رکھنااور عام آدمی کی رسائی تک رکھنا
  • کاشتکار کی آمدنی میں اضافہ۔

پانی کی استعدادِ کار کی بہتری کے لیے موسمیاتی تبدیلیوں سے ہم آہنگ ترکیبوں کا آزمائشی منصوبہ

جائزہ

زراعت کے شعبے کے لئے حکومت کے وژن  میں دیگر اقدامات کے ساتھ ساتھ ، زمین کی نمی معلوم کرنے والے آلات کے استعمال کے ذریعے  پانی کی استعداد کار کو بڑھاکر پانی کی بچت  کرنااور پیدا واری صلاحیت میں اضافہ کرنا شامل ہیں ۔ مجوزہ منصوبے کا مقصد  فارم کی سطح پر پانی کی استعدادِ کار کو بڑھانے کے ساتھ ساتھ   پانی اور فصلوں  کی پیداوار میں اضافے کے لیے موسمیاتی تبدیلیوں سے ہم آہنگ ترکیبوں کو آزمانہ ہے۔ پانی کے استعمال کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لئے پانی کی پیداواری صلاحیت اور فصلوں کی پیداوار میں بہتری لانا ہے۔ پانی کے استعمال کی استعداد کار کا بڑھاؤ پانی کی پیداواری صلاحیت کو بہتر بنانے میں نمایاں کردار ادا کرے گا اور اس کے نتیجے میں دیہی معیشت  میں خاطر خواہ بہتری آئےگی۔

مقاصد

  • ڈائریکٹ سیڈنگ رائس ٹیکنیک (DSR) ، آلٹرنینٹ ڈرائنگ اینڈ ویٹنگ  (AWD)  کا طریقہ اور زمین کی نمی معلوم کرنے والے جدید آلات کا استعمال کرتے ہوئے  فلڈ طریقہ آبپاشی میں پانی کے استعمال کی استعدادِکار کو بہتر بنانا
  • آبپاشی کے جدول  کے روایتی طریقہ کے مقابلے میں پانی کی پیداواری صلاحیت کو بہتر بنانے کے لیےزمین کی نمی معلوم کرنے والے جدید آلات  کے اثرات کو جانچنا اور اس کا مظاہرہ کرنا
  • زمین کی نمی معلوم کرنے والے جدید آلات  کو  ماحول کے مطابق مقامی / معیاری بنانا
  • مختلف جدید طریقوں کے ذریعے پانی کی استعدادِ کار کو بڑھانے کے لئے پیشہ ور افراد اور کسانوں کی صلاحیتوںمیں بہتری لانا

نتائج

  • 35 فیصد تک پانی کی بچت
  • پیداوار میں 8 فیصد اضافہ
  • توانائی کے استعمال میں  35 فیصد تک کمی
  • پیداواری معیار میں بہتری
  • زرعی مداخل کی لاگت میں کمی

سبسڈی سکیم برائے فروغ تیلدار اجناس 2019-20

جائزہ

محکمہ زراعت نے مالی سال 2019-20  تا 2023-24  کیلئے منصوبہ برائے تیل دار اجناس کا آغاز کیا جس  کیلئے 5490  ملین روپے مختص کئے گئے۔  اس سکیم کے تحت کاشتکاروں کو سورج مکھی، کینولا اور تل کا تصدیق شدہ بیج محکمہ زراعت سے منظور شدہ ڈ کمپنیز کے ذریعے کاشتکاروں کو سبسڈی ای ووچر کے ذریعے فراہم کی جا رہی ہے۔

مقاصد

  • تیلدار اجناس کی کاشت کو فروغ دینا
  • پاکستان میں تیلدار اجناس کی پیداوار کو بڑھانا

نتائج

  • سورج مکھی، کینولا اور تل  کیکاشتکاروں کو سبسڈی فراہم کی جا رہی ہے تاکہ تیلدار اجناس کی پیداوار کو بڑھایا جا سک

زرعی مشینری اور آلات

جائزہ

زراعت کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور زرعی اجناس کی موجودہ صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے مناسب زرعی مشینری، معیاری  بیج، فائدہ مند کھادوں اور کیمیکلز کے استعمال کی ضرورت ہوتی ہے۔ پیداواری صلاحیت بڑھانے میں زرعی مشینری بہت اہمیت کی حامل ہے۔ اس کی بدولت کام کی استعداد کار میں اضافہ ہوتا ہے اور کم وقت میں بہترین نتائج حاصل ہوتے ہیں۔تحقیقی ادارہ برائے مشینی کاشت (ایمری) ملتان اپنی نوعیت کا واحد ا دارہ ہے جوکہ صوبہ بھر میں زراعت میں مشینوں کے استعمال کو فروغ دے رہا ہے اور تحقیقی منصوبوں کی بدولت اس کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کر رہا ہے۔ مزید برآں ادارہ جدید اور معیاری زرعی مشینوں کی صنعت کے فروغ کے  لیے کوشان ہیں۔تحقیقی ادارہ برائے مشینی کاشت (ایمری) مقامی زرعی مشینری بنانے والے صنعتی اداروں کو بھی اپنی خدمات پیش کر رہا ہے۔ 

دیہی تبدیلیوں اور منڈیوں کے فروغ کا زرعی انقلابی پروگرام (سمارٹ) پنجاب 

جائزہ

سمارٹ پنجاب پروگرام عالمی بینک کے تعاون سے شروع کیا جانے والا پانچ سالہ) (2018-23قر ض کا پروگرام ہے جس کے ذریعے غربت میں خاتمے اور اجتماعی خوشحالی کے دوہرے تنائج حاصل ہوں گے۔نتائج پر منحصر اس پروگرام سے ملنے والے 300 ملین ڈالر کے قرض کے حصول کے لئے حکومت پنجاب 1.59 بلین ڈالر کی سر مایہ کاری کر رہی ہے جو کہ قرض کی رقم سے کہیں زیادہ ہے۔ پروگرام کی کامیابی کو جانچنے کیلئے کارکردگی کی بنیاد پر بارہ پیمانے (ڈی ایل آئی)بنائے گئے ہیں۔جن میں ایک یا ایک سے زیادہ ایسے اقدامات شامل ہیں جو کہ زرعی اور دیہی تبدیلیوں کیلئے درکار ہیں۔محکمہ زراعت سے متعلق ڈی ایل آئی مندرجہ ذیل ہیں:
  • ڈی ایل آئی 1: معیاری مداحل کی رسائی میں بہتری
  • ڈی ایل آئی2 َ: فصلوں اور مویشیوں کے متعلق تحقیق اور توسیع کے صوبائی نظام کی بہتری
  • ڈی ایل آئی4: ہائی ویلیو ایگریکلچر کی طرف منتقلی
  • ڈی ایل آئی5: ویلیو ایڈیشن اور زرعی ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری کیلئے زرعی کاروبار کو مراعات کی فراہمی
  • ڈی ایل آئی7: زرعی منڈیوں کی بہتری
  • ڈی ایل آئی10: فصل بیمہ تکافل پروگرام
  • ڈی ایل آئی11: کلایئمیٹ سمارٹ زراعت کا فروغ
  • ڈی ایل آئی 12: ذرائع ابلاغ، مستفید ہونے والوں کا آرا،تعلیم و تربیت، نگرانی اور جائزہ

مقاصد

  • کسانوں اور گلہ بانوں کی پیداوار میں اضافہ،ماحولیاتی تبدیلیوں سے متعلق مدافعت بڑھانااور پنجاب میں زرعی کاروبار کی ترقی میں اضافہ

۔نتائج

  • فصلوں اور مویشیوں کی ویلیو ایڈیشن اور مسابقت میں اضافہ،چھوٹے کاشتکاروں کے ماحولیاتی تبدیلیوں اور قدرتی آفات کے خلاف مدافعت میں اضافہ-

 

جعلی زرعی ادویات و کھادوں کے خلاف جاری مہم

جائزہ

زرعی ادویات اور کھادوں کا معیاراور قیمتیں کاشتکاروں کے ساتھ حکومت کیلئے بھی ہمیشہ پریشانی کا باعث رہی ہیں۔کاشتکاروں کو نوٹیفائیڈ قیمتوں کے مطابق معیاری کھادوں کی فراہمی کے پیشِ نظر1996 میں وزیر اعلیٰ پنجاب نے کھادوں اور کیڑے مار زرعی ادویات سے متعلق ٹاسک فورس تشکیل دی۔
​کوالٹی اور قیمتوں کو زیرو لاگت زرعی ادویات و کھادوں کے کنٹرول کے نظام کا نام دیا گیا۔محکمہ زراعت پنجاب کی تاریخ میں زیرو لاگت زرعی ادویات و کھادوں کے کنٹرول کا نظام غیر معیاری زرعی ادویات اور غیر منافع بخش مہم ثابت ہوئی۔یہ ضلعی سطح پر معیار اور قیمتوں کے اُمور کو حل کرنے کیلئے بطور ماڈل نظام کر سکتا ہے۔مجھے اُمید ہے کہ محکمہ زراعت سے متعلقہ تمام اسٹیک ہولڈرز کیلئے یہ ایک فائدہ مند نظام ثابت ہو گا۔

نتائج

محکمہ زراعت کی تاریخ میں کوالٹی اینڈ پرائس کنٹرول کے نظام نے کھادوں و کیڑے مار ادویات کے معیار اور قیمتوں پر قابو پانے کیلئے غیرمعمولی نتائج برآمد کئے ہیں۔ان میں سے ابتدائی تین ماہ کے نتائج درج ذیل ہیں:
  • پنجاب بھر میں جعلی کھادوں اور کیڑے مار ادویات تیار کرنے والی 14 فیکٹریوں / یونٹس کا پتہ لگایا گیا۔ان کو بنانے والے صنعت کاروں کو گرفتار کرکے جیل بھیجا گیا اور مال مسروقہ کو بحق سرکار ضبط کیا گیا
  • 17 کروڑ روپے مالیت کی جعلی کھادوں اور زرعی ادویات کو ضبط کیا گیا
  • 650 سے زائد ایف آئی آرز کا اندراج کروایا گیا
  • تقریباً3سو افراد کو موقع پر گرفتار کیا گیا
   
   
   
 
   

فصلوں کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ

پنجاب میں ربیع اور خریف کی فصلوں کا تخمینہ 

سال

گندم

کپاس

دھان

کماد

مکئی

رقبہ
(ملین ایکڑ)

پیداوار
(ملین ٹن)

رقبہ
(ملین ایکڑ)

پیداوار
(ملین ٹن)

رقبہ
(ملین ایکڑ)

پیداوار
(ملین ٹن)

رقبہ
(ملین ایکڑ)

پیداوار
(ملین ٹن)

رقبہ
(ملین ایکڑ)

پیداوار
(ملین ٹن)

2013-14

17.054

19.739

5.434

9.145

4.470

3.481

1.870

43.704

1.603

3.719

2014-15

16.500

19.500

6.000

10.500

4.743

3.500

1.853

43.012

1.380

3.090

2015-16

17.085

19.526

5.542

6.343

4.399

3.502

1.743

41.968

1.194

2.531

2016-17

16.680

20.114

4.388

6.903

4.291

3.475

1.922

49.613

1.535

3.373

2017-18

15.780

19.701

5.073

8.077

4.549

3.898

2.123

55.067

1.238

2.962

2018-19

16.165

18.589

4.812

7.116

4.954

3.992

1.811

68.80

1.312

-

 

 

سال

تیلدار اجناس

(کینولہ، سرسوں، توریا، رایا)

سورج مکھی

رقبہ

(ملین ایکڑ)

پیداوار

(ملین ٹن)

رقبہ

(ملین ایکڑ)

پیداوار

(ملین ٹن)

2013-14

3.742

14.67

0.067

0.054

2014-15

3.605

13.99

0.054

0.037

2015-16

3.230

12.68

0.039

0.031

2016-17

2.962

12.05

0.048

0.036

2017-18

3.558

18.88

0.104

0.081

2018-19

4.758

-

-

-