جاری منصوبہ جات

قومی منصوبہ جات

قومی پروگرام  برائے اصلاحِ  کھالاجات  ( فیز2)-پنجاب

کل لاگت: 46,255.356  ملین روپے

دورانیہ: 2012-13 تا 2020-21

مختص رقم برائے 20 - 2019: 1,651.389 ملین روپے

سرگرمیاں

  • پانی کی پیداواری صلاحیت  کو بہتر بنانا، یعنی فی قطرہ زیادہ پیداوار حاصل کرنا ہے
  • پانی کے ترسیلی نظام کو بہتر بناکر اور کھیت کی سطح پر پانی کی بچت کے طریقوں کو اپناکر پیداوری صلاحیت کو بہتر بنانا
  • آبپاش زراعت  میں سہولیات کی فراہمی اوراستحکام کے لیے نجی شعبے کو  مضبوط بنانا
  • کم لاگت سے فصل کی زیادہ پیداوار حاصل کرنے کے لئے نظامِ آب پاشی کی بہتری میں متعلقین کی صلاحیتوں کو بڑھانا

وزیرا عظم پاکستان کے زرعی ایمرجنسی پروگرام کی تحت گندم کی پیداوار میں اضافے کا قومی منصوبہ

کل لاگت: 16518.70  ملین روپے

دورانیہ: سال 2019-20ء تا 2023-24 (60 ماہ)

مختص رقم برائے 20 - 2019: 1710.676  ملین روپے

سرگرمیاں

  • اس پراجیکٹ کے ذریعے پنجاب بھر کے 11اضلاع میں 86611ایکڑ رقبہ کی اصلاح کے لیے کاشتکاروں کو 2ٹن جپسم 50فیصد رعایتی قیمت پر دی جائے گی
  • زمین میں نامیاتی مادہ کی کمی پورا کرنے کے لیے 246735ایکڑ رقبہ پر جنتر کاشت کر کے اور روٹا ویٹ کرنے پر کاشتکاروں کو فی ایکڑ 1440روپے کی سبسڈی فراہم کی جائے گی
  • گندم کو ڈرل اور مشینی کاشت کو فروغ دینے اور وقت پر کاشت کرنے کے لیے کاشتکاروں کو4007زیرو ٹیلج ڈرل، 6680 خشک وتر میں کاشت کے لیے ڈرل،2374وتر ڈرل،1187بیڈ پلانٹر اور 1187سیلشر مشین 50فیصد رعایتی قیمت فراہم کی جائیں گی
  • کاشتکاروں میں تصدیق شدہ اور بیماریوں سے پاک بیج کے فروغ کے لیے صوبہ بھر میں 216457ٹن گندم کا بیج 50فیصد ریایتی قیمت پر فراہم کیا جائے گا
  • جڑی بوٹیوں کے تدارک اور استعمال کو فروغ دینے کے لیے 11.840ملین ایکڑ رقبہ پر جڑی بوٹی مار ادویات کے استعمال پر کاشتکاروں کورعایتی قیمت پر جڑی بوٹی مار ادویات فراہم کی جائیں گی
  • تصدیق شدہ بیج، متوازن کھادوں کے استعمال، جڑی بوٹی مار ادویات کے استعمال کے لیے 2500نمائشی پلاٹ لگوائے جائیں گے تاکہ کاشتکاروں کو جدید ٹیکنالوجی کے استعمال اور اس کے نتائج کو عملی طور پر دکھایا جا سکے
  • علاوہ ازیں کاشتکاروں کے 300اجتماعات منقد کیے جائیں گے
  • ریڈیو، ٹیلی ویژن اور اخباروں پر اشتہارات کے ذریعہ مہم چلا کر کاشتکاروں کو جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے روشناس کروایا جائے گا۔جس سے گندم کی فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ ہوگا۔کاشتکاروں کی آمدن میں اضافہ ہو گا۔ کسان، صوبہ اور ملک خوشحال ہو گا

وزیرا عظم پاکستان کے زرعی ایمرجنسی پروگرام کی تحت دھان کی پیداوار میں اضافے کا قومی منصوبہ

کل لاگت: 9988.388  ملین روپے

دورانیہ: سال 2019-20ء تا 2023-24 (60 ماہ)

مختص رقم برائے 20 - 2019: 946.016  ملین روپے

سرگرمیاں

  • لاگت میں 50فیصدحصہ کی بنیاد پر مندرجہ ذیل زرعی مشینری/آلات کی فراہمی
    • رائیڈنگ ٹائپ ٹرانسپلانٹرز(450نمبر)
    • واک آفٹر ٹائپ ٹراسپلانٹرز(250نمبر)
    • نرسری ریزنگ مشین(450 نمبر)
    • ڈرل براہ راست بوائی چاول(DSR Drill900نمبر)
    • واٹر ٹائٹ روٹا ویٹر(800نمبر)
    • رائس سٹراچاپر+ڈسک پلو/ایم بی پلوسیٹ(780نمبر)
    • نیپسک پاور اسپریئر(2450نمبر)
  • لاگت میں 50فیصد حصہ کی بنیاد پر مصدقہ بیج (سرٹیفائیڈ بیج) کی فراہمی229,285من
  • نمائشی پلاٹوں کا قیام (3,625نمبر)
  • دھان کی کٹائی کے لئے مخصوص ہارویسٹر کے فروغ کے لئے کسانوں کو فی ایکڑ 1500روپے کی فراہمی۔(453,518ایکڑ)
  • لاگت میں 30فیصد حصہ کی بنیاد پر جڑی بوٹی مار ادویات (weedicide)کی فراہمی۔(725,200ایکڑ)
  • پنجاب حکومت کے زیر انتظام کسانوں کے لئے میگا فارمرزڈے کا انعقاد (180نمبر)
  • لاگت میں 50فیصد حصہ کی بنیاد پر مائیکرو نیوٹرینٹ کی فراہمی۔(181,300ایکڑ)
  • ضلعی اور صوبائی سطح پر چاول کے پیداواری مقابلہ جات کے ذریعے کاشتکاروں کی پذیرائی(240نمبر)

قومی پروگرام برائے فروغ تیل دار اجناس

کل لاگت: 5114.999  ملین روپے

دورانیہ: سال 2019-20ء تا 2023-24 (60 ماہ)

مختص رقم برائے 20 - 2019: 535.527  ملین روپے

سرگرمیاں

  • سبسڈی  برائے مشینری = 10یونٹ
  • سبسڈی برائے کینولا = 14,612ملین روپے
  • سبسڈی برائے سورج مکھی = 37,224ملین روپے
  • سبسڈی برائے تل = 28,800ملین روپے
  • نمائشی پلاٹ برائے کینولا = 30
  • نمائشی پلاٹ برائے سورج مکھی = 30
  • نمائشی پلاٹ برائے تل = 15
  • میگا فارمر گیدرنگ = 70

کماد کی پیداواراور منافع میں اضافے کا قومی پروگرام

کل لاگت: 2726.900  ملین روپے

دورانیہ: سال 2019-20ء تا 2023-24 (60 ماہ)

مختص رقم برائے 20 - 2019: 746.000  ملین روپے

سرگرمیاں

  • تعداد زرعی مشینری  50% شراکتی بنیاد پر فراہمی = 5025
  • تعداد نمائشی پلاٹ: = 2960
  • کاشتکاران کے اجتماعات = 270 
  • فارمر ڈیز = 986 
  • زنک سلفیٹ کی سبسڈی پر فراہمی کا رقبہ (ایکڑ) = 297010 
  • ستمبر کاشتہ فصل میں مخلوط کاشت کا رقبہ (ایکڑ) = 13000
  • کماد کی بہتر پیداوار کے مقابلوں کے متوقع انعام یافتہ = 168 
  • مفید کیڑوں  کے استعمال کا ہدف =  1012500

صوبائی منصوبہ جات

شعبہ ایوب زرعی تحقیقاتی ادارہ فیصل آباد 

شعبہ زرعی توسیع و تطبیقی تحقیق پنجاب

شعبہ سوائل سروے آف پنجاب

شعبہ پلاننگ اینڈ ایویلویشن سیل پنجاب

    شعبہ فلوریکلچر (ٹی اینڈ آر) پنجاب